حُزنِ بقائے ہجر میں شامل نہیں رہے

حُزنِ بقائے ہجر میں شامل نہیں رہے
ہم وہ کہ التفات کے قابل نہیں رہے
 
جب جسمِ احتیاج سے اٹھ کر ولی ہوئے
تب موجِ اختیار کاساحل نہیں رہے
 
وہ حاملینِ صدق سو، وہ وارثانِ دار
ہم تو خطا کی خاک تھے، کامل نہیں رہے
 
احساسِ درد میں کہیں جامد ہے زندگی
گو ہم رہِ حیات میں حائل نہیں رہے
 
فہم و بیاں کا فرق ہی اپنا چلن سہی
کہنے کو ہم ریا کے تو قائل نہیں رہے
 
ہے دفترِ حسرت میں یہی بارہا لکھا
ہم دل پہ اقتدار کے حامل نہیں رہے
 
دنیا سے احتقار کا شکوہ ہی کیوں کریں
یہ اختیار خود پہ بھی حاصل نہیں رہے
 
اپنے جمالِ قدر سے الفت کی بھیک دے
ہم صدقۂ خمیر کے سائل نہیں رہے

Advertisements
شائع کردہ از سُخنِ منظوم, قریباً غزلیات | ٹیگ شدہ , , , | 2 تبصرے

پردۂ مہمل میں نہاں ہے یہ میرا عکسِ بیاں

پردۂ مہمل میں نہاں ہے یہ میرا عکسِ بیاں
جبر کے چکر میں رواں ہے یہ میرا عکسِ بیاں
 
وحشتِ ہجراں ہے جو کاٹی، تری خواہش کے نگوں
اب ہوا پِیری میں عیاں ہے یہ میرا عکسِ بیاں
 
چشمِ حیرت میں جو تُو ہے، تو ہراک منظر میں ہوں مَیں
ناظرِ جاں پر ہی عیاں ہے یہ میرا عکسِ بیاں
 
گر مجھے فرقت میں میسر ہے تیرا عہد و وجود
تب تو میرا شیخِ زماں ہے یہ میرا عکسِ بیاں
 
مشتِ خاکی سی بکھری، مستیِ قالب ہے گواہ
اب تو بس ہستی کا مکاں ہے یہ میرا عکسِ بیاں
 
الفتِ پیہم سے سجایا میں نے نفرت کا بیاں
قریۂ وحشت کا دِواں ہے یہ میرا عکسِ بیاں
 
طاعتِ نوری نَے سہی، وحشتِ ناری نَے سہی
پیکرِ خاکی کی اذاں ہے یہ میرا عکسِ بیاں

شائع کردہ از قریباً غزلیات, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , | 3 تبصرے

سَم گزیدہ لہجوں میں

سَم گزیدہ لہجوں میں
نیلگوں آوازیں ہوں
اسپِ وقت کا نصیب
دوریوں کے چابک ہوں
رابطے کی دنیا میں
راج ہو اناؤں کا
بھولتی ہوں تتلیاں
راستہ وفاؤں کا
سوکھتا ہو شجرِ لمس
وصل کی سبھاؤں میں
گونجتا ہو سازِ جبر
ہجر کی گپھاؤں میں
فاصلوں کے دیس میں
بستیاں ابھرتی ہوں
رحمتوں کے دریا میں
کشتیاں بکھرتی ہوں
الفتوں کے دامن جب
مختصر سے ہو جائیں
نفرتوں سے ہارے جب
منتشر سے ہو جائیں
تب سوالِ جاں لوگو
صدقِ اتباع کا ہے
زیبِ داستاں میں گم
حسرتِ وفا کا ہے
رزمِ زیست میں گڑے
لاشۂ نباہ کا ہے
نذرِ خواہشاں ہوئی
عشق کی عطا کا ہے

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , , | تبصرہ چھوڑیں

شہہ گرانِ شہر کے

شہہ گرانِ شہر کے
تارۂ امید ہم
قاصدانِ امن کو
اک گڑی صلیب ہم
روحِ شورش و قضا
کذب کی شُنید ہم
حریصِ مسند و کُلاہ
وارثِ بُرید ہم
ساحرِ فساد ہیں
قاتلِ ثبات ہیں
ہم آلۂ صیدِ وقت
فتنۂ دراز ہیں
ہم سا پارسا ہے کون؟
ہم سا با صفا ہے کون؟
عامیوں کے دیس میں
خاصۂ اصیل ہم
کاتبانِ قدر کو
رنگِ جبر سے بہم
غرض کی بساط پر
مہرۂ کبیر ہم
مہر کی زمین پر
قہر کے سفیر ہم
کہ پُتلۂ موم سے
فکر پہ قدیر ہم
داستانِ مختصر
قید ہم، اسیر ہم
موسمِ نمو میں یوں
رَد کی ہیں نفیر ہم

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , , | 1 تبصرہ

آرزوئے دلِ مضطر جو سنانے لگتے

آرزوئے دلِ مضطر جو سنانے لگتے
قصۂ شوق کو کہنے میں زمانے لگتے
 
چہرۂ حرف پہ جو بکھرا ہے یہ خونِ مہر
عارضِ رنگیں وہ کب ہم کو سہانے لگتے
 
سنگِ تشنیع نے کیا ہے ہمیں قائل ورنہ
قصے مجنوں کے تو ہم کو بھی فسانے لگتے
 
مذہبِ عشق پہ واعظ جو کبھی ہوتا اپنا
روح کے زخم سبھی اس کو دکھانے لگتے
 
یہ بھی اچھا کہ رہے رانجھا نہ فرہاد کہیں
ہم میں بستے تو وہ لوگو! نہ دِوانے لگتے
 
گر جو رستہ نہ دکھاتا غمِ ہستی کا دیا
ہم سے بھٹکے ہوئے راہی نہ ٹھکانے لگتے
 
فدیۂ نص پہ جو ہوتا ہمیں کامل ایماں
نہ یہ مکتوبِ جفا سب کو دکھانے لگتے

شائع کردہ از قریباً غزلیات | ٹیگ شدہ , , , | 1 تبصرہ

لوٹتے پرندوں سے

لوٹتے پرندوں سے
کب کسی نے پوچھا ہے
ٹوٹتی اڑانوں کو
کب کسی نے جوڑا ہے
اس زمیں کے سارے رنگ
اس فضا کے سارے انگ
تم نے بھر لئے سبھی؟
تم نے چھو لئے سبھی؟
ان کا مَول کتنا ہے؟
ان کا سُود کتنا ہے؟
ہستِ ماندہ کے لئے
ان کا قرض کتنا ہے؟
واپسی کے آنگن میں
پھول حسرتوں کا ہے
واپسی کی کُٹیا میں
رنگ ہجرتوں کا ہے
سو، لوٹتے پرندوں کی
ہستیاں بتاتی ہیں
اس زمیں کے گردا گرد
بستیاں تو اک سی ہیں
راہروؤں سے بے غرض
کاوشوں سے بالاتر
منزلیں جو دائم ہیں
راستے جو قائم ہیں
ہانپتے پسینوں کو
کب کسی نے پونچھا ہے
ہارتے کھلاڑی کا
کب کسی نے سوچا ہے
ہار کے نصیبے میں
نفرتیں ازل سے ہیں
ہارتے کھلاڑی کی
زردیاں بتاتی ہیں
جیت کے شرابے کی
سیٹیاں تو اک سی ہیں

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , , | 1 تبصرہ

ضبطِ قیدِ آگہی

ضبطِ قیدِ آگہی
روحِ بارِ حرف ہے
باجِ عرضِ خواہشاں
ہستیوں پہ قرض ہے
وارثِ صدائے جاں
(جو ہے صدائے کُل مکاں)
فصلِ ربط پر کھڑا
پوجتا ہے خبط کو
خبطِ عظمتِ جدا
خبطِ سرمدِ وفا
ہے سرابِ کُن فکاں
ہے عذابِ جاوِداں
طُرّۂ خُلقِ عام
جس کی بھینٹِ خاص ہے
اس کے پائے ناز کو
خونِ جاں کی پیاس ہے
خونِ آرزوئے دل
خونِ نُطقِ گُل فشاں
ماہِ شوخ سا دُھلا
رنگِ چاہ سا کِھلا
بس یونہی بہا کرے
بس یونہی کھلا کرے
نہ اس کی وہ دوا کرے
چُپ کا وہ صلہ کرے
کہ حرف تو کہا نہیں
کہ لفظ تو سنا نہیں
یہ حق ادا ہوا نہیں!
وہ ربط ہی بُنا نہیں!

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , | 2 تبصرے