شہہ گرانِ شہر کے

شہہ گرانِ شہر کے
تارۂ امید ہم
قاصدانِ امن کو
اک گڑی صلیب ہم
روحِ شورش و قضا
کذب کی شُنید ہم
حریصِ مسند و کُلاہ
وارثِ بُرید ہم
ساحرِ فساد ہیں
قاتلِ ثبات ہیں
ہم آلۂ صیدِ وقت
فتنۂ دراز ہیں
ہم سا پارسا ہے کون؟
ہم سا با صفا ہے کون؟
عامیوں کے دیس میں
خاصۂ اصیل ہم
کاتبانِ قدر کو
رنگِ جبر سے بہم
غرض کی بساط پر
مہرۂ کبیر ہم
مہر کی زمین پر
قہر کے سفیر ہم
کہ پُتلۂ موم سے
فکر پہ قدیر ہم
داستانِ مختصر
قید ہم، اسیر ہم
موسمِ نمو میں یوں
رَد کی ہیں نفیر ہم

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , , | 1 تبصرہ

آرزوئے دلِ مضطر جو سنانے لگتے

آرزوئے دلِ مضطر جو سنانے لگتے
قصۂ شوق کو کہنے میں زمانے لگتے
 
چہرۂ حرف پہ جو بکھرا ہے یہ خونِ مہر
عارضِ رنگیں وہ کب ہم کو سہانے لگتے
 
سنگِ تشنیع نے کیا ہے ہمیں قائل ورنہ
قصے مجنوں کے تو ہم کو بھی فسانے لگتے
 
مذہبِ عشق پہ واعظ جو کبھی ہوتا اپنا
روح کے زخم سبھی اس کو دکھانے لگتے
 
یہ بھی اچھا کہ رہے رانجھا نہ فرہاد کہیں
ہم میں بستے تو وہ لوگو! نہ دِوانے لگتے
 
گر جو رستہ نہ دکھاتا غمِ ہستی کا دیا
ہم سے بھٹکے ہوئے راہی نہ ٹھکانے لگتے
 
فدیۂ نص پہ جو ہوتا ہمیں کامل ایماں
نہ یہ مکتوبِ جفا سب کو دکھانے لگتے

شائع کردہ از قریباً غزلیات | ٹیگ شدہ , , , | 1 تبصرہ

لوٹتے پرندوں سے

لوٹتے پرندوں سے
کب کسی نے پوچھا ہے
ٹوٹتی اڑانوں کو
کب کسی نے جوڑا ہے
اس زمیں کے سارے رنگ
اس فضا کے سارے انگ
تم نے بھر لئے سبھی؟
تم نے چھو لئے سبھی؟
ان کا مَول کتنا ہے؟
ان کا سُود کتنا ہے؟
ہستِ ماندہ کے لئے
ان کا قرض کتنا ہے؟
واپسی کے آنگن میں
پھول حسرتوں کا ہے
واپسی کی کُٹیا میں
رنگ ہجرتوں کا ہے
سو، لوٹتے پرندوں کی
ہستیاں بتاتی ہیں
اس زمیں کے گردا گرد
بستیاں تو اک سی ہیں
راہروؤں سے بے غرض
کاوشوں سے بالاتر
منزلیں جو دائم ہیں
راستے جو قائم ہیں
ہانپتے پسینوں کو
کب کسی نے پونچھا ہے
ہارتے کھلاڑی کا
کب کسی نے سوچا ہے
ہار کے نصیبے میں
نفرتیں ازل سے ہیں
ہارتے کھلاڑی کی
زردیاں بتاتی ہیں
جیت کے شرابے کی
سیٹیاں تو اک سی ہیں

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , , | 1 تبصرہ

ضبطِ قیدِ آگہی

ضبطِ قیدِ آگہی
روحِ بارِ حرف ہے
باجِ عرضِ خواہشاں
ہستیوں پہ قرض ہے
وارثِ صدائے جاں
(جو ہے صدائے کُل مکاں)
فصلِ ربط پر کھڑا
پوجتا ہے خبط کو
خبطِ عظمتِ جدا
خبطِ سرمدِ وفا
ہے سرابِ کُن فکاں
ہے عذابِ جاوِداں
طُرّۂ خُلقِ عام
جس کی بھینٹِ خاص ہے
اس کے پائے ناز کو
خونِ جاں کی پیاس ہے
خونِ آرزوئے دل
خونِ نُطقِ گُل فشاں
ماہِ شوخ سا دُھلا
رنگِ چاہ سا کِھلا
بس یونہی بہا کرے
بس یونہی کھلا کرے
نہ اس کی وہ دوا کرے
چُپ کا وہ صلہ کرے
کہ حرف تو کہا نہیں
کہ لفظ تو سنا نہیں
یہ حق ادا ہوا نہیں!
وہ ربط ہی بُنا نہیں!

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , | 2 تبصرے

کوئی تم سا نہیں دکھتا

تمہارے شہر میں آ کر
کوئی تم سا نہیں دِکھتا
بس اک برفاب دریا ہے
اور اک کہرا ہے یادوں کا
اسی دریا کہ جس پر میں
رکا ہوں ایک لمحے کو
سبھی منظر سمیٹوں میں
کسی ناظر کو کھوجوں میں
کہ برف کی تہہ میں شاید
کہیں لہریں رواں بھی ہوں
تو منظر عکس ہو جائے
سراپا رقص ہو جائے
پرے وہ اک کنارا ہے
گواہِ عہدِ سالِ نو ،
وہ تب خاموش بیٹھا تھا
وہ جس شب کو کہا تم نے
کبھی جو کھوج پاؤ تم
کبھی جو لوٹ آؤتم
اسی منظر کو چھو لینا
ہمارا لمس مل جائے
تمہارا عکس کِھل جائے
انا کو ہار دینا تب!
محبت مان لینا تب!
 
کہ اب یہ کھوجتی آنکھیں
کہ اب یہ سوچتی باتیں
ہے جن کا ہجر بے پایاں
ہے جن کی کھوج بے مایا
ہاں میرا جذب بھی اب تو
بس اک برفاب دریا ہے
کہ جس کی تہہ میں شاید
سبھی لہریں کہ ہیں ساکن
محبت کی دعاؤں میں
کبھی توبہ نہیں ہوتی
کہ مجذوبِ جفا ہو کر
کوئی دَر وا نہیں ہوتا
 
سو، اک برفاب دریا ہے
اور اک کہرا ہے یادوں کا
تمہارے شہر میں آ کر
کوئی تم سا نہیں دکھتا

شائع کردہ از نظم, آزاد, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , , | 1 تبصرہ

آتشِ ہجراں میں یوں زیست کو جلتا دیکھیں

آتشِ ہجراں میں یوں زیست کو جلتا دیکھیں
دلِ وحشی کو اب اس طور مچلتا دیکھیں
 
ضبطِ ہستی سے رہی تھی کبھی ہم کو الفت
اب کے کہہ کر وہی پَندار چٹختا دیکھیں
 
ہم کہ بوندِ شبِ نم جو رہے سورج پہ فدا
اپنی ہستی کو مٹا کر تجھے بڑھتا دیکھیں
 
گر کرامت ہو میسر تجھے چھو لینے کی
بیٹھ پہلو میں ہر اک زخم کو سلتا دیکھیں
 
یہ جو آہن سا دھڑکتا ہے مرے پہلو میں
لگ کے شانے سے ترے اس کو پگھلتا دیکھیں
 
جرأتِ شوقِ بڑھا کے تری محفل میں کبھی
گلِ لالہ ترے عارض پہ یوں کھلتا دیکھیں
 
جو گدائے درِ وصلِ جنوں ایسے ہی رہے
اب وہی دامنِ ہستی بھی بکھرتا دیکھیں

شائع کردہ از قریباً غزلیات, سُخنِ منظوم | ٹیگ شدہ , , , , | 2 تبصرے

جوبنِ گُل بھی تو بلبل کے بنا ڈھلتا جائے

جوبنِ گُل بھی تو بلبل کے بنا ڈھلتا جائے
اور یہ جی ہے کہ تری یاد پہ چلتا جائے
 
وہ پریشاں تھامرے شانوں پہ بکھرا ایسے
کہ سمندر کسی ساحل پہ پھسلتا جائے
 
میرے ابلاغ پہ قدغن نہ لگا بادِ صبا
یہ تمنا کا لہو ہے جو ابلتا جائے
 
میں جو رویا ہوں توہستی نہیں ہارا جاناں
میرے اندر جو ترا غم ہے پگھلتا جائے
 
ہو جو مغروریِ محبوب کا چرچا ہر سُو
مری الفت کا یوں ہر رنگ ہی کِھلتا جائے
 
جس کو سونپی تھی سدا سَمت نمائی اپنی
وہ تو ایسا ہے کہ ہر آن بدلتا جائے
 
اپنے مصدر کو جگا کوئی تو مظہر بھی دکھا
اب دیا آس سا ہی دید کا بھی جلتا جائے
 
ہم ترے نقش کو تھامے ہوئے یوں بڑھتے ہیں
راہِ تسلیم پہ طالب کوئی چلتا جائے
 
یوں تو ہم سے نہ کسی حرف کا احساں اُٹھا
ہاں مگر درد کہ جس میں بھی یہ ڈھلتا جائے

شائع کردہ از سُخنِ منظوم, قریباً غزلیات | ٹیگ شدہ , , , , , , | 1 تبصرہ